021 34979073 .... +92 311 0264214

Home

50  8

اسلام ایک عالم گیر اور تا قیامت باقی رہنے والا مذہب ہے۔عصر حاضر میں جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال اسلام کی حسین وجمیل صورت کو مسخ کرنے کے لیے بھی کیا جارہا ہے اس لیے مذہب اسلام کی ترویج واشاعت کے ساتھ ساتھ اس کی حمایت اور بیرونی حملوں سے اس کی حفاظت ہر عصر میں مجموعی طور پر قوم پر واجب ہے ۔بدلتے وقت کے ساتھ تبلیغ اسلام کے مطالبات وذرائع میں بھی بڑی حدتک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ہمارا یہ دور سائنسی انکشافات اور ترقیات کا دور ہے۔انٹرنیٹ کے نقصانات ، فواہشات اور غیر اخلاقیات کو دیکھ کر ’’ انٹرنیٹ کا استعمال ممنوع ہے‘‘ کا نعرہ بلند کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی بلکہ ہمیں بھی اپنی حکمت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا

2002ء میں انٹرنیٹ پر ساڑھے چار لاکھ سے زائد مذہبی ویب سائٹس تھیں جن میں تقریباً دولاکھ ویب سائٹس عیسائیت کی تبلیغ کے لیے مخصوص تھیں اور اب تو اور بھی زیادہ ہوں گی۔مذہب اسلام کی اشاعت کے حوالے سے بہ مشکل چند ہزار ویب سائٹس موجود تھیں۔ان تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اب دین کے لیے فکر مند ودرد مند افراد وادارے یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کی حدود کے اندر رہ کر ہمیں بھی اپنے مقاصد کی ترجمانی وفروغ کے لیے اس ذریعہ کو اپنا نا چاہیے۔

الحمد للہ!  دیگر اداروں کی طرح مدرسۃ الانور، گلشن اقبال ،کراچی بھی  اس راہ کا مسافر بن چکا ہے  ، اور اپنی ویب سائٹ قرآنی عربی ڈاٹ کام کے ذریعے قرآن مجید کا پیغام دنیا بھر میں پھیلانے کی جستجو میں مصروف عمل ہے ، اور اس میں بڑی حد تک کامیابی نصیب ہوئی ہے ۔170 سے زائد ملکوں سے لوگ قرآنی عربی کورس کے اس پروگرام کے ذریعے مستفید ہو رہے ہیں اور قرآن مجید کا آسان اور تیزرفتار طریقہ سے ترجمہ سیکھ کر اپنی زندگی کو قرآن پاک کے مطابق ڈھالنے کی سعی کر رہے ہیں ۔ 27 رمضان المبارک 1434 ھ کی بابرکت ساعتوں سے اس ویب سائٹ کی ابتدا ہوئی اور اب تک اس کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد وزیٹرز ہو چکے ہیں ۔اس ویب سائٹ پر ہمہ وقت 24 گھنٹے قرآن مجید کا آسان انداز سے ترجمہ سکھانے والے بہترین کورس قرآنی عربی سیکھئے کے اسباق نشر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان اسباق کو ڈاون لوڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے ۔

تعارف قرآنی عربی کورس

Introduction of quraniarbi course

’’ قرآنی عربی سیکھیے‘‘ قرآن کریم کے سبق اور درس کے حلقے قائم کرنے اور ’’دراسات‘‘ یا ’’ فہم دین کورس‘‘  جیسے سلسلوں میں قرآنی تعلیمات پڑھائے جانے کیلئے پیش کی گئی ایک کاوش ہے ۔ اس کورس کو مخصوص تعلیمی طریقہ کار کے تحت وضع کیا گیا ہے جسے جدید اصطلاح ميں (ٹی پی آئی) کہا جاتا ہے۔ اس کورس کی تیاری کے ساتھ اسے تجرباتی تدریسی مرحلے سے بھی بار بار گزارا گیا۔ ناظرہ ، حفظ، درجہ اولیٰ کے طلبہ ، فضلائے کرام اور اسکول و کالج کے بچوں، کالج کے نوجوانوں غرض مختلف سطحوں پر اسے آزمایا گیا، ساتھ ہی فضلائے کرام، ائمہ مساجد اور مدرسین حضرات کو اسے پڑھانے کی تربیت بھی دی جاتی رہی ۔ ان دونوں طرح کے تجربات کے دوران سامنے آنے والی تجاویز اور مشوروں کی روشنی میں اس کا سانچہ و ڈھانچہ ایسا رکھا گیا کہ یہ سب کے لئے یکساں کار آمد ہو۔

اس کے چار لیول ہیں۔ پہلے تین لیول قواعد(صرف ونحو ؛ گرائمر ) پر مشتمل ہیں۔ پہلے لیول کے اختتام پر نماز کا سبق اور دس سورتیں’’تقطیعی ترجمہ‘‘کے ساتھ دی گئی ہیں۔ اگر کوئی پورا کورس نہ بھی پڑھے تو پہلا لیول اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کم از کم نماز کا سبق اور دس سورتیں تو بآسانی سمجھ لے اور زندگی بھر کے لئے تعلق مع اللہ کی کنجی ہاتھ آجائے اور نماز میں مناجات کا لطف آنے لگے ۔ آپ دیکھیں گے کہ پہلے لیول کے اختتام پر ان شاء اللہ تمام بچے اور نمازی از خود ان کا ترجمہ و مفہوم سمجھ رہے ہوں گے ۔ چوتھا لیول ‘‘ الفاظ القرآن’’پر مشتمل ہے ۔ یہ در حقیقت ایک مستقل کتاب ’’قاموس القرآن‘‘ ہے ۔ اس میں 98فیصد کے لگ بھگ قرآنی الفاظ (اسماء، افعال، حروف) بھی ہیں اور قرآنی مثالوں کے ذریعے پہلے تین لیول میں پڑھے گئے قواعد کے بھر پور اجرا کا اہتمام بھی ہے ۔

اس کورس کی تدوین اور تزئین میں ان تمام تعلیمی اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہے ، جو انسانی ذہن کو متوجہ کرتی اور اس میں کوئی چیز نقش کیے جانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی چیز کو ایک مرتبہ پڑھنے کے دوران چھ مرتبہ پڑھنا ،تمام حواس کا استعمال، صرف قرآنی مثالیں، رنگوں اور شکلوں کا بھر پور استعمال ، فن شماریات سے استفادہ، ہر سبق کے شروع میں پچھلے سبق کا اعادہ اور ہر سبق کے آخر میں اس کا مختلف صورتوں میں اجراء ، ہر سبق کے بعد خود تشخیصی جائزہ اور ہر مرحلےکے اختتام پر خود تشخیصی امتحان، وغیرہ ۔اس کورس کے مقاصد یہ ہیں کہ ہمارے لیےقرآن کر یم کاسمجھنا آسان ہو جا ئے , قرآن کریم سمجھ کر تلاوت کرنا اور حفظ کرنا آسان ہو جائے ، قرآن کریم پر عمل کرنا آسان ہو جائے ، قرآن کریم پر عمل کی دعوت دینا آسان ہو جائے اور ہمیں قبر اور حشر میں قرآن کریم کی شفاعت نصیب ہو جائے۔

 

No comments.